آپ کا سوال
      آپ کا مضمون
      ممبر شپ
      اي بکس

اگر کسی شخص کے اندر سچا ایمان ہے تو وہ اپنی اولاد سے متعلق سب سے زیادہ فکر مند اس بات کے لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ان کو آخرت کے ہول اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ ارمان کہ اولاد کو دنیوی کامیابیاں حاصل ہوں اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔

توبہ
انڈرسٹینڈنگ اسلام  پر خوش آمدید    -   10 ستمبر 2010
ہوم  -  واپس

پرنٹ کریں

ای میل

مباحثہ

متعلقہ معلومات
 معز امجد :Article written by
 Pakistan :Country
 21-Dec-2004 :Date
 

بو والی سبزیاں کھا کر مجالس میں آنا

روي1أنه وجد النبي صلى الله عليه وسلم ريح ثوم في المسجد2 فقال: من أكل من هذه الشجرة3 فلا يغشانا في مسجدنا4 – يؤذينا بريح الثوم5 – حتى يذهب ريحها6، فإن الملائكة تأذى مما يتأذى منه7 الإنس8.

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ)  مسجد میں لہسن1 کی بو محسوس کرتے ہوے فرمایا: جو یہ سبزی کھاۓ اسے چاہیۓ کہ جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جاۓ ، ہمیں  اس سے تکلیف پہنچاتے ہوے ، وہ ہمارے پاس ہماری مسجد2 میں نہ آۓ ، کیونکہ جو چیزیں انسانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہیں وہ فرشتوں کے لیۓ بھی تکلیف دہ  ہیں3۔

 

ترجمے کے حواشی

 

1۔ اس مضمون کی دوسری روایات سے یہ بات واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت ایسی تمام سبزیوں سے متعلق ہے جن کے استعمال سے آدمی کے منہ سے بو آتی ہو۔

2۔ یہاں محسوس یہ ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصلا لوگوں کو اس بات سے متنبہ کر رہے ہیں کہ مجالس میں دوسروں کے قریب جاتے ہوے انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے منہ سے کسی نوعیت کی بو نہ آرہی ہو، کیونکہ یہ چیز دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے۔ اسلام سے پہلے عام طور پر عرب چونکہ آداب معاشرت کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین کی تعلیم  کے ساتھ ساتھ آداب معاشرت سکھانے کا بھی اہتمام کیا۔  

3۔ اس جملے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسانوں اور فرشتوں کے حسیات اور محسوسات مختلف چیزوں کے بارے میں ایک جیسے ہیں بلکہ یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر کسی وجہ سے عبادت کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو کوئی اذیت پہنچتی ہے تو ان کی اس اذیت سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، چنانچہ انسانوں کو تکلیف دینے والی چیز فرشتوں کے لیے بھی تکلیف دہ بن جاتی ہے۔

 

متن کے حواشی

 

1۔اپنی اصل کے اعتبار سے یہ بخاری کی روایت، رقم 816 ہے۔ بعض اختلافات کے ساتھ یہ حسب ذیل مقامات پر نقل ہوئی ہے:

بخاری ، رقم 815۔ مسلم، رقم 563،564۔ موطا، رقم 30۔ ترمذی ، رقم 1806۔ ابن ماجہ ، رقم 1016،1015۔ ابوداود، رقم 3824۔ نسائی، رقم 707۔ سنن الکبری ، رقم 786،6679۔ دارمی، رقم 2053۔ ابن خزیمہ ، رقم 1661،1662،1663،1664،1665 ،1668۔ بیہقی، رقم 4828،4829،4830،4831،4832،4833،4834۔ احمد بن حنبل، رقم 4619 ، 4715  ، 7573، 7599، 9540 ، 12960، 15056 ،15111، 15198،15334۔ ابویعلی، رقم 1889،2321،2322،4291،4960،5916،6118 ۔ عبدالرزاق، رقم1736۔ ابن ابی شیبہ ، رقم 1669۔ ابن حبان ، رقم 1634،1644،1645،1646،2086،2088،2089،2090 ۔ حمیدی ، رقم 1229 ۔

2 ۔ "وجد النبي صلى الله عليه وسلم ريح ثوم في المسجد" (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں لہسن کی بو محسوس کی) کے الفاظ احمد بن حنبل، رقم 9540 میں روایت ہوے ہیں۔

3 ۔ بعض روایات مثلا احمد بن حنبل، رقم 9540 میں "من أكل من هذه الشجرة" (جو اس پودے میں سے کھاۓ) کے بجاۓ "من أكل من هذه الشجرة الخبيثة" (جو اس مکروہ پودے میں سے کھاۓ)  کے الفاظ روایت ہوے ہیں، جبکہ بعض روایات مثلا ابوداود، رقم 3824 میں "من أكل من هذه البقلة الخبيثة" (جو اس مکروہ سبزی میں سے کھاۓ  ) کے الفاظ ، احمد بن حنبل، رقم  15334میں "من أكل ثوما أو بصلا"  ( جو لہسن یا پیاز کھاۓ ) کے الفاظ ، ابن حبان ، رقم 2090 میں "من أكل من هذه الشجرة المنتنة"(جو اس بودار پودے میں سے کھاۓ )  کے الفاظ اور حمیدی ، رقم 1229میں "إذا أكلتم هذه الخضرة فلا تجالسونا في المجلس" ( جب تم یہ سبزی کھاؤ تو ہماری مجالس میں نہ آؤ) کے الفاظ روایت ہوے ہیں۔ بعض روایات مثلا ابن ماجہ ، رقم 1016میں "من أكل من هذه الشجرة"(جو اس سبزی میں سےکھاۓ ) کے جملے میں "شيئا" ( کچھ  )  کے لفظ کا اضافہ ہے۔

4۔ بعض روایات مثلا بخاری ، رقم  815 میں "فلا يغشانا في مسجدنا" (تووہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں نہ آۓ  ) کے بجاۓ "فلا يقربن مسجدنا" ( وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ )  کے الفاظ ، احمد بن حنبل، رقم 15111میں "فلا يغشنا في مسجدنا" (تووہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں نہ آۓ )  کے الفاظ ،  احمد بن حنبل، رقم 4619 میں "فلا يأتين المسجد" ( اسے مسجد میں نہیں آناچاہیے )  کے الفاظ ،  احمد بن حنبل، رقم 4715 میں "فلا يأتين المساجد"( اسے مسجدوں میں نہیں آناچاہیے )  کے الفاظ ، ابن حبان ، رقم 2089  میں  "فلا يغشنا في مساجدنا" ( تو اسے ہمارے پاس ہماری مسجدوں میں نہیں آنا چاہیے )  کے الفاظ ،  ابن خزیمہ ، رقم 1661 میں  "فلا يقربن المساجد" ( اسے مسجدوں کے قریب نہیں آنا چاہیے )  کے الفاظ ، احمد بن حنبل، رقم 12960 میں  "لا يصلين معنا"( اسے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھنی چاہیے )  کے الفاظ ، احمد بن حنبل، رقم 15334 میں "فليعتزلنا" ( تو اسے چاہیے کہ ہم سے الگ رہے )  اور  "فليعتزل مسجدنا وليقعد في بيته" ( تو اسے چاہیے کہ وہ ہم سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے )  کے الفاظ ، سنن الکبری ، رقم 6679 میں "فليعتزلنا وليعتزل مسجدنا وليقعد في بيته" (تو اسے چاہیے کہ وہ ہم سے اور ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے  )  کے الفاظ ، ترمذی رقم 1806 میں  "فلا يقربنا في مسجدنا" ( تو وہ ہماری مسجد میں ہمارے قریب نہ آۓ )  کے الفاظ ، عبدالرزاق رقم 1736 میں  "فلا يغشى مسجدي هذا" ( تو وہ میری اس مسجد کے قریب نہ آۓ )  کے الفاظ ، بیہقی، رقم 4828 میں "فلا يأتي مسجدنا" ( تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ )  کے الفاظ ، بیہقی، رقم 4830 میں  "فلا يقربنا ولا يصلينا معنا  (تو وہ ہمارے قریب نہ آۓ اور ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے)  کے الفاظ ، ابو یعلی ، رقم 4291 میں "فلا يقربن من مصلانا" ( تو وہ ہماری نماز کی جگہوں میں ہمارے نزدیک نہ آۓ ) کے الفاظ ، ابو یعلی ، رقم 6118 میں "فلا يدخل في مسجدنا" (تو وہ ہماری مسجد میں داخل نہ ہو ) کے الفاظ ، مسلم ،رقم 563 میں "فلا يقربن مسجدنا ولا يؤذينا بريح الثوم"  (تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ اور ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف نہ پہنچاۓ  )  کے الفاظ ، احمد بن حنبل، رقم 7573 میں  "فلا يؤذينا بها في مسجدنا" ( تو وہ ہماری مسجد میں ہمیں اس سے تکلیف نہ پہنچاۓ )  کے الفاظ ، ابن خزیمہ ، رقم 1662 میں  "فلا يؤذينا بها في مسجدنا هذا"  (تو وہ ہماری اس مسجد میں ہمیں اس سے تکلیف نہ پہنچاۓ  )  کے الفاظ ، بیہقی، رقم 4831 میں  "فلا يؤذينا في مسجدنا" (تو وہ ہماری مسجد میں ہمیں تکلیف نہ پہنچاۓ )  کے الفاظ ، ابن حبان رقم، 1645 میں  "فلا يؤذينا في مجالسنا" (تو وہ ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف نہ پہنچاۓ  )  کے الفاظ روایت ہوے ہیں۔   

 5 ۔ "يؤذينا بريح الثوم" (لہسن کی بو سے ہمیں تکلیف پہنچاتے ہوے )  کے الفاظ موطا، رقم 30 میں روایت ہوے ہیں۔

 6 ۔"حتى يذهب ريحها"  ( یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے)  کے الفاظ بیہقی ، رقم 4829 میں روایت ہوے ہیں۔

 "فإن الملائكة تأذى مما يتأذى منه الإنس" (کیونکہ جن  چیزوں سے انسانوں کو  تکلیف پہنچتی ہے ان سے فرشتے بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں)  کے الفاظ مسلم، رقم 564 میں روایت ہوے ہیں، تاہم بعض روایات مثلا نسائی، رقم 707 میں "تتأذى" ( وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں) کے الفاظ جبکہ بعض روایات مثلا ابن حبان رقم، 2086 میں  "منه" ( اس سے) کے بجاۓ "يه" ( اس سے ) کے الفاظ نقل ہوے ہیں۔

8۔بعض روایات مثلا بیہقی ، رقم 4829 میں لفظ "الإنس" (انسان ) کی جگہ "الإنسان" (انسان )کا لفظ روایت ہوا ہے جبکہ حمیدی رقم، 1299 میں "الناس" ( لوگ ) کا لفظ اور ابو یعلی رقم ، 2321 میں "ابن آدم" ( آدم کی اولاد)  کے الفاظ روایت ہوے ہیں۔

بعض روایات مثلا ترمذی رقم ، 1806 کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا ہدایت "الثوم" ، " البصل" اور  "الكراث" یعنی لہسن ، پیاز اور گندنا کے متعلق ہے۔

مذید برآں ، مذکورہ بالا روایت مسلم رقم ، 564 میں اس طرح نقل ہوئی ہے:

 

(صحابہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمیں) پیاز اور گندنا کھانے سے روک دیاتھا، تاہم بھوک کے غلبے کی وجہ سے ہم نے انہیں  کھالیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس بودار سبزی میں سے کھالے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ، کیونکہ جو چیزیں انسانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہیں وہ فرشتوں کے لیۓ بھی تکلیف دہ  ہیں۔

  

روي أنه نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل البصل والكراث فغلبتنا الحاجة فأكلنا منها فقال من أكل من هذه الشجرة المتنة فلا يقربن مسجدنا فإن الملائكة تأذى مما يتأذى منه الإنس.

ترجمہ: اظہاراحمد

 

 

 Members
 Login
 Password
 

Click here to download Urdu Font
 
 
 
 انڈرسٹينڈنگ اسلام
  تعارف
  پس منظر
  ھماري ٹيم
  آپ کی رائے
  فني نقص کی اطلاع

Developed By UITechs - www.uitechs.com



Copyright (c) 2003-2004 Understanding Islam, All rights reserved.