دنیا میں آنے سے قبل بعض انسانی ارواح کا آپس میں مانوس ہونا
روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الأرواح جنود مجندة، فما تعارف منها
ائتلف وما تناكر منها اختلف.
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسانی ارواح (اس دنیا میں
آنے سے قبل) جمع شدہ لشکر ( کی مانند) تھیں۔ جن کی (وہاں) ایک دوسرے سے انسیت ہوئی،
وہ (یہاں بھی) آپس میں مانوس ہیں اور جو(وہاں) ایک دوسرے کے لیے نامانوس تھیں ان
(کی شخصیتوں) میں ( یہاں بھی) اختلاف ہے۔
ترجمے کے حواشی
قرآن
مجید سے اتنی بات تو واضح ہے کہ اس مادی دنیا میں آنے سے قبل انسانی ارواح کسی نہ
کسی حالت میں موجود تھیں، تاہم اس روایت کے مضمون کی نوعیت ایسی ہے کہ ہم کسی اور
ذریعے سے اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ چنانچہ اس روایت سے متعلق جو بات کہی جاسکتی ہے
وہ یہی ہے کہ اس کا مضمون چونکہ قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے اس لیے راویوں نے اگر
اسے ٹھیک نقل کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت درست ہے۔
متن
کے حواشی
1-
یہ روایت درج ذیل مقامات پر نقل ہوئی ہے:
بخاری، رقم
3158۔
مسلم، رقم
2638
۔
ابن حبان، رقم
6168
۔ ابوداؤد، رقم
4834۔
احمد بن حنبل ، رقم7922
، 10836 ، 10969
۔ابویعلی، رقم
4381
۔
2-
مسلم، رقم
2638
میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ راویوں نے اس روایت کے ساتھ ایک دوسری روایت کو سہوا جمع
کر دیا ہے۔ وہاں یہ روایت اس طرح نقل ہوئی ہے:
|
لوگ چاندی اور سونے کی کانوں کی مانند ہیں۔ جو دور جاہلیت میں سب سے اچھے تھے
وہ دور اسلام میں بھی سب سے اچھے رہیں
گے اگر وہ سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔اور انسانی ارواح (اس دنیا میں آنے سے قبل)
جمع شدہ لشکر(کی مانند) تھیں۔ جن کی (وہاں) ایک دوسرے سے انسیت ہوئی، وہ
(یہاں بھی) آپس میں مانوس ہیں اور جو(وہاں) ایک دوسرے کے لیے نامانوس تھیں ان
کی شخصیتوں میں ( یہاں بھی) اختلاف ہے۔ |
الناس معادن كمعادن الفضة والذهب. خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا
فقهوا. والأرواح جنود مجندة، فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف. |
ترجمہ: اظہار احمد