مختلف قبائل اور قوموں کے خصائص
روي أنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الملك في قريش، والقضاء في الأنصار،
والأذان في الحبشة والأمانة في الأزد يعني اليمن.
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمرانی ( کےخصائص) قریش میں،
قانونی فیصلے کرنے(کی خوبیاں) انصار1میں،
اذان (کا حسن) حبشہ( کے لوگوں ) میں جبکہ امانت داری (کاوصف) ازد یعنی یمن ( کے
رہنے والوں ) میں ہے2۔
ترجمے کے حواشی
1۔
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ساتھی جومدینہ کے رہنے والے تھے۔
2۔
اس روایت میں مختلف قبائل اور قوموں کے نمایاں خصائص کا ذکر کیا گیا ہے۔ مختلف
قوموں کے مختلف خصائص دراصل ان کے مختلف سیاسی و سماجی حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
عموما کسی قوم میں جو قدریں اجتماعی سطح پر پروان چڑھتی ہیں اس کے افراد انہیں کا
وصف اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں اور پھر وہی قدریں اس قوم کی شناخت بن جاتی ہیں۔
متن کے حواشی
1۔
یہ روایت بعض اختلافات کے ساتھ درج ذیل مقامات پر نقل ہوئی ہے:
ترمذی، رقم 3936۔ احمد بن حنبل، رقم 8746 ، 17690۔ ابن ابی شیبہ، رقم 32395۔ مسند
الشامیین، رقم 1626،1909
۔
معجم الکبیر، رقم 298۔
2۔
احمد بن حنبل، رقم
17690
میں "
الملك
" (حکمرانی) کی جگہ"
الخلافة
"(امارت) کا لفظ،"
القضاء
"( فیصلےکرنا) کی جگہ "
الحكم"
(فیصلےکرنا) کا لفظ، "
الأذان
" (نماز کے لیے بلانا) کی جگہ "
الدعوة
" (پکار) کا لفظ نقل ہوا ہے، جبکہ ابن ابی شیبہ، رقم 32395 میں "
الأمانة
" (امانت) کےبجاۓ "
السرعة
" (تیزی) کا لفظ روایت ہوا ہے۔
3۔
احمد بن حنبل، رقم
17690
میں
"والهجرة
في المسلمين والمهاجرين بعد"
(جبکہ ہجرت مسلمانوں اور مہاجروں میں اب کے بعد بھی رہےگی) کے الفاظ جبکہ معجم
الکبیر، رقم 298 میں
"والجهاد
والهجرة في المسلمين والمهاجرين بعد"
(جبکہ جہاد اور ہجرت مسلمانوں اور مہاجروں میں اب کے بعد بھی رہیں گے) کے الفاظ بھی
روایت ہوے ہیں۔
ترجمہ:
اظہار احمد