عنوان: کیا جادو حرام ہے؟
تفصیل:
آپ نے جواب میں لکھا ہے کہ "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نہ اللہ تعالی نے قرآن مجید ہی میں کسی بھی علم کو حاصل کرنے سے روکا ہے"۔ کالے جادو کے علم کے حصول کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ چیزیں اسلام میں حرام نہیں؟ اگر آپ کا جواب وہی ہے تو پھر مسلمانوں کی اکثریت ان علوم کو حرام کیوں سمجھتی ہے؟
جواب:
ہم نے اس سوال "کیا انگلش لٹریچر پڑھنا حلال ہے؟" کے جواب میں لکھا تھا:
کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں شریعت کا واضح حکم موجود ہو۔ شریعت نے چونکہ کسی چیز کے پڑھنے کو حرام قرار نہیں دیا اور نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہی سے ایسی کسی بات کا ثبوت ملتا ہے، اس لیے کسی بھی چیز کے پڑھنے کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس جواب میں ہم نے واضح کیا تھا کہ کوئی بھی چیز صرف اسی صورت میں حرام قرار پاتی ہے جب کہ شریعت میں اس کا واضح حکم موجود ہو۔ اگر شریعت میں جادو کی حرمت کی نص موجود ہے تو اس حرام ہی سمجھنا چاہیۓ۔
مسلمانوں کی اکثریت جادو کو حرام اس لیے سمجھتی ہے کیونکہ اس کے حصول کا طریقہ اور اس کے نتائج، دونوں اپنے اندر اخلاقی قباحتیں رکھتے ہیں۔ اور زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ لوگ اس علم کو غلط استعمال کر کے لوگوں کے لیے پریشانی اور مصیبت کا باعث بنیں گے۔
امیرعبدالباسط
26 مئی 2003