عنوان: دوپٹّا اوڑھنے سے متعلق سورۂ احزاب، آیت 59 کا صحیح مفہوم
تفصیل:
آپ نے ایک سوال "یورپی ممالک میں مسلمان لڑ کیوں کا دوپٹہ نہ لے سکنا" کے جواب میں بالکل صحیح جواب دیا ہے. لیکن آخر میں ایک ایسی بات کر دی ہے جس نے مجھے حیران کر دیا۔ آپ نے لکھا:
جبكہ دوپٹہ وغيرہ لينے كے بارے ميں يہ بات واضح كي جا چكي ہے كہ يہ شريعت كا براہ راست حكم نہيں ہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ پلیز اس کی وضاحت کریں۔ میں ایک ریفرنس بھی بھیج رہا ہوں۔ اللہ فرماتے ہیں:
[ترجمہ] "اے پیغمبر! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی بیویوں سے کہو کہ وہ اپنی چادریں اپنے سارے جسم پر ڈال لیا کریں (یعنی ایک یا دونوں آنکھوں کے علاوہ اپنے سارے جسم ڈھانپ لیں)۔ یہ بہتر ہو گا کیونکہ اس طرح وہ پہچان لی جائیں گی (آزاد اور معزز عورتوں کی حیثیت سے) اور انہیں تنگ نہ کیا جائے گا۔ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے" (الاحزاب 59:33)
جواب:
آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔ اسے زیر بحث اس لیے نہیں لایا گیا کہ سورۂ احزاب کی یہ آیت اور اس مو ضوع پر سورہ کی دیگر تمام آیات نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم اور آپ کی بیویوں کے لیے خاص ہیں۔ مزید برآں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت کا مطالعہ بھی ہمیں اسی نتیجہ تک پہنچاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگنے کے واقعے کے بعد منافقین کی سازشوں کا ایک طوفان آ گیا تھا جس کا ہدف شریف مومن عورتیں، بالخصوص آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ازواج مطھرات تھیں۔ چنانچہ ان آیات میں مذکور ہدایات اسی دور میں دی گئی تھیں۔ اس آیت کو پچھلی اور اگلی آیات سے ملا کر پڑھیے تو اصل صورتحال آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گی کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب شر پسند لوگوں نے مسلمان شریف زادیوں کو تنگ کرنا شروع کیا تھا۔
مزید برآں آپ کے تحریرکردہ ترجمے میں درج ذیل اصلاح کی بھی ضرورت ہے: "وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں"۔ آیت میں موجود عربی الفاظ کا اطلاق سارے جسم پر نہیں ہو سکتا اور "(یعنی ایک یا دونوں آنکھوں کے علاوہ اپنے سارے جسم ڈھانپ لیں)"، ترجمے میں اضافہ ہے، جو کہ مترجم یا مفسّر کا ذاتی فہم ہے۔
حافظ محمد ابراھیم شیخ
14 اگست 2003