عنوان: روزہ اور شریعت اسلامی
سوال:
شریعت اسلامی کے
مطابق روزہ کیا ہے اور اس کے کیامسائل ہیں جن کی وضاحت شریعت نے خود کردی ہے۔
جواب:
شریعت کے مطابق
روزہ یہ ہے کہ آدمی روزے کی نیت سے محض اللہ کی خوشنودی کے لیے کھانے پینے
اوربیویوں کے پاس جانے سے اجتناب کرے۔یہ پابندی فجر سے لے کررات کے شروع ہونے تک
ہے، روزے کی راتوں میں کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانا بالکل جائز ہے۔
فرض روزوں کے لیے رمضان کا مہینہ خاص کیا گیا ہے، تاہم نفلی روزے جب چاہیں رکھے
جاسکتے ہیں، البتہ جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرلینے ، پورا سال روزے رکھنے اور
عید کے دنوں میں روزہ رکھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا۔ اسی طرح
رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دودن پہلے روزہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند
نہیں فرمایااور فرمایا ہے کہ وہ شخص البتہ ایسا کرسکتا ہے جوروزے ہی رکھتاہو۔
بیماری یاسفر کی وجہ سے یاکسی اور مجبوری کے باعث آدمی اگر رمضان کے فرض روزے پورے
نہ کرسکے تو لازم ہے کہ دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر اس کی تلافی کرےاور یہ تعداد
پوری کردے۔
سحری کے لیے اٹھنا چاہیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہے۔
اذان ہوجاۓ اور برتن ہاتھ میں ہو تو آدمی جو کچھ کھارہا ہو،کھالے۔اس میں کوئی حرج
نہیں ہے۔
جنابت کی حالت میں روزہ رکھ سکتے ہیں۔
آدمی بھول کر کچھ کھالے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔فرمایا ہے کہ یہ تو اسے اللہ نے
کھلایااور پلایاہے۔
روزے میں مجامعت کے سوابیوی سے ہرطرح اظہار محبت کرسکتے ہیں۔سیدہ عائشہ کابیان ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور مجھے اپنے ساتھ
بھی لگاتے تھے۔